شاھین کی ڈائری

 

پیسہ

شاہین جاوید۔۔۔ ریاض
shaheenji4@gmail.com

یوں تو کاغذ اور دھات سے روپیہ پیسہ بنتا ہے پر اس کی اہمیت خدا کی دی گئی سب سے قیمتی چیز زندگی سے بڑھ کر ہے یا شاید انسانوں نے اسے جانوں سے زیادہ قیمتی بنا لیا ہے۔اور اسی کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں۔گویا اس دولت میں اتنی طاقت ہے کہ اس کی وجہ سے رشتے ناطے سب عارضی بن جاتے ہیں۔ اور لوگ خود غرض ہو جاتے ہیں۔ اور خون کے رشتے تک فراموش ہو جاتے ہیں۔ اور یوں زندگی کی گاڑی میں سفر کرنے والے مسافر بکھر جاتے ہیں۔آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جذبے ، احساسات منجمند ہو کر رہ جاتے ہیں اور رنجشیں پھل پھول کر تناور درخت بن جاتیں ہیں۔ دولت تو صرف دنیاوی معیار کوثابت کرتی ہے۔ پر روحانی معیار تو صرف اور صرف نیک نیتی ، احسن سلوک اور خدا خوفی کا عنصر ہی واضح کرتا ہے۔ پس پھر کچھ لوگوں کے لئے دنیاوی معیار افضل ہے اور چند افراد کے نزدیک روحانی معیار۔۔۔۔ دنیاوی معیار کے حامی تو( مصنوعی ) خوشیاں حاصل کر لیتے ہیں ۔پراکثر جب سادہ لوگ اس روپیہ پیسا کی چکی میں پستے ہیں اور اپنی شرافت اور نیک نیتی کا صلہ بھیانک صورت میں پاتے ہیں تو بہت تکلیف ہوتی ہیں۔ ان کی اچھائیوں کا ، ان کی سادگی کا صلہ اس طرح تکلیف دہ ہو گا۔ اس کا اندازہ انہیں شاید پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے پر پھر بھی وہ رشتوں کی پاسداری کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ایسے لوگ صحیح معنوں میں آخرت میں کامیاب و کامران ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں، جو لوگ سچے جذبوں کی پاسداری کریں اور مطلب پرستی اور دولت کی بجائے دوسروں کی احساسات کا خیال رکھیں۔وہی انسانیت کے صحیح دعوےدار ہوتے ہیں۔