Welcome to ContactPakistan.com

برصغیر کی تقسیم کے بنیادی نظریہ کے تحت کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا۔ سردار اشفاق ہندوستان کشمیر سے افواج کا انخلاء کرے، اقتدار مقامی قیادت کو سونپے اور رائے شماری کروائے۔
جموں و کشمیر کمیونٹی کے جنرل سیکرٹری سردار اشفاق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی ظلم و ستم کے باوجود آج بھی وہ کشمیریوں کے نظریہ یعنی الحاق پاکستان کو بدل نہیں سکے۔ انہوں نے یہ بات یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مجلس محصورین پاکستان ( PRC ) کے تحت ً مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ کی ذمہ داری ً کے عنوان سے سمپوزیم سے صدارتی خطبہ میں کہی ۔انہوں نے سمپوزیم کے انعقاد پرشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح PRC مسائل کشمیر اور محصورین کو مستقل اُجاگر کرتی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی ظلم و ستم کے باوجود آج بھی وہ کشمیریوں کے نظریہ یعنی الحاق پاکستان کو بدل نہیں سکے،
 کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بنیادی نظریہ کے تحت کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا۔ سردار اشفاق نے تجویز کیاکہ تما م پاکستانی سفارتخانوں میں کشمیر کاؤنٹر اور لائبریری ہونی چاہئے تا کہ دُنیا کے لوگ اس مسئلہ کی بنیاد سمجھ سکیں ۔ انہوں نے حکومت سے محصورین کی وطن واپسی کا بھی مطالبہ کیا۔ پاکستان رائٹرز فورم کے صدر انجینئر سید نیاز احمد نے کہا کہ سمپوزیم کا موضوع بہت اہم ہے اور ہمیں مسلم اُمت کو اس مسئلہ پر باور کرنے کے بعد اقوام عالم میں بھی اسے اُجاگر کرنے کا خاطر خواہ انتظام کرنا ہو گا۔ انہوں نے محصورین کی کسمپرسی کا تذکرہ کیا اور ان کی جلد منتقلی کا مطالبہ کیا۔سماجی رہنما گلاب خان نے کہا قائد نے کشمیر کو شہ رگ قرار دیالیکن ہم نے عملی طور پر اسے ہندوستانی قبضہ سے آزاد کرنے کی سعی نہ کی اسی لئے دُشمن مستقل اس پر قابض ہے۔ انہوں نے کہا کے کشمیر کا مسئلہ حل کسی فارمولہ میں نہیں بلکہ صرف حق خوداختیاری میں ہے اور اس کے بغیر برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ محصورین مسئلہ کشمیر کی طرح پیچیدہ نہیں ہے اور حکومت چاہے تواسے جلد حل کر سکتی ہے۔محمد اشفاق بدایونی نے کہا کہ کشمیر سے اب یک جہتی نہیں بلکہ کثیر الجہتی کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی اور اسلامی دُنیاکی مدد کے بغیرمسئلہ کشمیر کا حل مشکل ہے۔ انہوں نے محصورین کی واپسی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ طارق محمود نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو مسائل کشمیر اور محصورین کو اپنے منشور میں شامل کرنا چاہئے۔شیخ محمد لقمان، حامد اسلام خان اور سیکرٹری جنرل عبدالقیوم واثق نے بھی اس دن کی مناسبت سے اظہار خیال کیا۔معروف شعراء سید محسن علوی، عبدالقیوم واثق، ذمردخان سیفی اور گل انور نے کشمیریوں کی جدوجہد پر منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ کنونیر سید احسان الحق نے تمام مقررین اور شعراء اور خاص طورپر کشمیری نمائندوں کی سمپوزیم میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیرحکومت کو اولین سفارتی ترجیح پر رکھنا ہو گاتا کہ عالم اسلام کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مسئلہ کے ادراک اور پاکستان کے حق کو تسلیم کرانے کے لئے OIC کے تعاون سے مشترکہ لائحہ عمل پر عملدرآمد کیاجائے تاکہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری کرائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ مسئلہ محصورین کو حل کرنے کے لئے بھی حکومت اقدام کرے ۔ مندرجہ ذیل قرادایں منظور کی گئیں۔
1) کشمیر سے ہندوستان اپنی فوج ہٹائے اور اقتدار علی گیلانی، میر واعظ اور مقامی قیادت کے حوالے کرے اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق رائے شماری کا انتظام کرے۔
2) حکومت محصورین کی منتقلی و آبادکاری کے لئے 1988ء؁میں قائم رابطہ ٹرسٹ بحال کرکے ان کی آبادکاری کا عمل دوبارہ شروع کرے اور جب تک وہ کیمپوں میں ہیں بنگلہ دیش میں متعین پاکستانی ہائی کمیشن ان کی دیکھ بھال اور ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
تقریب میں تلاوت سید شہاب الدین نے کہ جبکہ نعت سید محسن علوی نے پڑھی۔ آخر میں ملکی یکجہتی ، سیلاب زدگان کی گھروں کو واپسی، الحاق کشمیر اور محصورین کی واپسی کے لئے دُعائیں کی گئی۔ تقریب کی نظامت عبدالقیوم واثق نے کی۔


Learn CPR

Register in our Virtual Blood Bank (Only KSA)

Click to send your Classified ads

KSA Newsletter Archives - Read all about our community in KSA
Be United - Join the Community
ęCopyright notice