Welcome to ContactPakistan.com


جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ الریاض کے زیر اہتمام مقبول بٹ شہیدڈئے کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد
رپورٹ : مدثر رفیق چوہدری الریاض سعودی عرب
جموں کشمیر لبرشن فرنٹ الریاض عرصہ بیس سال سے کشمیری قربانیوں و اپنے قائد شیر کشمیر مقبول بٹ شہید کو خراج تحسین و خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہر سال پروگرام کا انعقاد کرتی ہے ا ہر سال کی طرح اس سال بھی جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ نے اپنے قائد کو خراج تحسین و خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک خوبصورت تقریب کا انعقاد الریاض کے مقامی ہو ٹل میں کیا ۔ مقبول بٹ شہید کی ستاسویں برسی کے حوالے سے منعقد ہ جموں کشمیر لبرشن فرنٹ الریاض کی جانب سے تقریب پروگرام سے پہلے میں جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ اور مقبول بٹ شہید کے حوالے سے ایک چھوٹا تعار ف قارین کی نظر پیش ہے جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ ایسی جماعت کہ جس کا موٹو کشمیریت ہماری پہچان ہے ،آزاد ی ہمارا مقدر اور آزاد کشمیر کے اصل فریقوں کو رائے شماری کرنے کا حق دینا تاکہ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکیں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ کے قائد مقبول بٹ شہید جہنوں نے اپنی جان دے کر آزادی کی جو شمع روشن کی ہے وہ شعلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔مقبول بٹ شہید کو بھارت نے تہاڑ جیل میں پھانسی دی اورتنکوں میں جو آگ کے شعلے بھارت نے بھڑکائے ان کی لپیٹ میں وہ خود آگیا اور اس کی سات لاکھ سے زاہد فوج کو کشمیری مجاہدین نے ناکوں چنے چبائے ہوئے ہیں اور بھارت کا سالانہ کھربوں کے حساب سے بجٹ کشمیر کی سیز فائر لائن پر تعنیات فوج پر خرچ کیا جا رہا ہے اس کے باوجود بھارت اپنے ناپاک عزائم میں بری طرح ناکام ہو رہاہے اور اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھانستا چلا جا رہا ہے ۔مقبول بٹ شہید کی پھانسی کے بعد اتنی گردنیں آگے بڑی کہ بھارت کی جیلیں تنگ پڑ گئی ہیں ۔مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد تحریک آزاد ی کشمیر اور بھی زیادہ زور پکڑ ااور مقبول بٹ کے جان نثار ساتھیوں نے اس تحریک کو جو روح پھونکی وہ دن بدن پروان چڑتی جا رہی ہے اور وہ وقت دور نہیں کہ پورئے کشمیر پر کشمیر کا پرچم پوری آب و تاب کیساتھ لہرائے گا اور کشمیری اپنی آزاد ریاست میں سکوں اور آزاد ی کی سانس لے سکیں گئے ۔تقریب کی خاص بات مہمان خصوصی مقبوضہ کشمیر سے آئے ہوئے اس تحریک کے روح رواں و جموں کشمیر لبرشن فرنٹ کے مرکزی رہنما و کشمیری عوام و نوجوانوں سے بے پناہ محبت رکھنے والے عبدالمجید بٹ تھے ،جبکہ تقریب کی صدارت جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ سعودی عرب کے صدر محمد رفیق بیگ نے کی اور اعزازی مہمان جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ دمام برانچ کے صدر راجہ حنیف تھے۔سٹیج پر بیٹھے ہوئے دیگر خصوصی شخصیات میں سعودی عرب کے چیف آرگنائزر خواجہ منظور چشتی ،پاک کشمیر رائٹر کلب کے صدر پرویز شاہین ،لبرشن فرنٹ الریاض کے ارگنائزر محمد اسلم بھی موجود تھے ۔جبکہ نظامت کے فرائض جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ سعودی عرب کے جنر ل سیکرٹری سردار پرویز خان نے بڑئے احسن طریقے سے انجام دی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ محمد محمود نے حاصل کی ۔محمد ساجد نے نعت رسول مقبولﷺ پیش کی مقررین میں سب سے پہلے جموں و کشمیرلبرشن فرنٹ سعودی عرب کے رہنما محمد سلیم نے اپنے خطاب کا آغاز قائدکشمیر مقبول بٹ شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کیا ۔اس کے بعد انہوں نے اپنے خطاب میں کشمیر کی تاریخ کے حوالے سے بڑی سبق اموز باتیں بھی شئیر کی ۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی بدقسمتی ہے کہ حکمران اپنے اصلی مقصد کو بھول کر اقتدار کے پیچھے بھاگے گئے۔کشمیریت ہماری پہچان ہے اور آزاد ی ہمار ا مقد ر ہم شہید کشمیر کے مشن کو جاری و ساری رکھیں تب تک جب تک ہمیں اپنابنیادی حق نہیں مل سکتا ۔اس کے بعد جیالے رہنما انجینئرسردار طاہر پشیر جو حال میں سعودی عرب تشریف لائے ہیں نے اپنے خطاب میں کشمیر کی آزادی و خود مختاری کی بات کی ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آزاد کشمیر میں جےکے ایل ایف کے لئے جسطرح کوششیں کی جب میں یہاں پر آیااور مایوس ہوا کہ کاش یہاں پر بھی ہمارا مشن کسی طریقے سے اسے طرح جاری و ساری رہتا لیکن میں اندھیرئے میں تھا کیونکہ یہاں پر مجھے آج بڑی خوشی ہوئی کے شہید مقبول بٹ کے چاہنے والے یہاں پر بھی ماجود ہیں ۔انھوں نے جے کے ایل ایف کی قیادت سے درخواست کی کہ ہمیں یہاں پر ایسے مواقعے دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہمار ا کنیکشن ولنک کشمیر کے ساتھ جڑا رہے۔آج اس بات کی ضرورت ہے کہ جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ کاجو لٹریچڑ ہو تا ہے وہ کم سے کم ہم تک آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جے کے ایل ایف کوآزاد کشمیر میں اور اوورسیز میں رکنیت سازی کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کے حوالے سے روشنی ڈالی ۔تقریب میں ترنم جمیل حنیف خان نے اپنی سریلی آواز میں اور برے اچھے انداز میں یہ ترانہ پیش کر کے حاضرین کے دل جیت لئے اس ترانے کے چند اشعا ر کچھ اسطرح ہیں۔
وہ صبح تو کبھی آئے گی ۔۔۔وہ صبح تو کبھی تو آئے گی
جب دکھ کے بادل نکلیں گئے ۔۔جب سکھ کا ساگر چھلکے گا
جب امبر جھوم مے ناچے گا ۔۔جب دھرتی نغمے گائے گی
وہ صبح تو کبھی آئے گی ۔۔ وہ صبح تو کھبی آئے گی
جمیعت علما ء اسلا،م الریاض کے قاری عبدالباسط نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہزاروں سال کی تاریخ پر محیط ہے ،کشمیر ی ایک طویل عرصے سے اپنی آزاد ی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔کشمیریوں نے مختلف ادوار میں مختلف مواقع پر اپنے جسم کے ٹکرئے کروائے اپنا گرم لہوپیش کر کے آزاد ی کی اس شمع کو روشن رکھا ۔ایک مرحلہ وہ آتا ہے کہ جب سفتر علی خان اور ملی خان نے کشمیر کی آزادی کے لیے اپنی جسموں سے زندہ کھالیں کھچوا کر آزاد ی کی اس تحریک کے لیے خشت اول رکھی ۔یہ سلسلہ چلتا رہا اور نوجوانان کشمیر نے اپنا گرم لہوقربان کر کے 1947 ؁ء میں آزاد کشمیر کا ٹکڑا جو کہ ۵۴۰۰ مربع کلومیٹر بنتا ہے کو آزاد کروایا۔باقی مانندہ کشمیر جو کہ اس وقت بھارت کے زیر حراست ہے پر بھارت نے ظلم و جبر کی انتہا کی ہو ئی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی کے ہمارے حکمران بجائے مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں ان کو اقتدار کی حوس چڑھتی گئی ۔آج تڑیسٹھ سال گزرنے کے باوجود بھی کشمیر یوں کواپنی منزل آزادی نہ مل سکی ۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی عوام نے بھی کشمیری عوام کا ساتھ کبھی نہ چھوڑا ۔یہاں ریاض میں تمام کشمیری جماعتیں مل بیٹھ کر ایک پلیٹ فارم آرگنائز کریں ۔اور اس کے تحت اگر زیادہ نہیں تو سال میں ایک یا دو کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کروائیں چاہیے وہ پاکستانی سفارتخانے کے اندر ہی کیوں نہ کروایاجائے اور باقی ممالک کے سفراء کو بھی مدعو کیا جائے اور ان کے سامنے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے تجاویز پیش کی جائیں تاکہ انٹرنیشنل سطح پر اسے مسئلے کو مزید فوقیت ملے۔تقریب میں جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ کا ایک ننھے منھے سے مجاہد اسامہ نے بھی اپنی تقریر انگلش میں کی اور تاریخ کشمیر کے اوپر عکس بندی کی ۔اس کے بعد تقریب میں جوش و جذبہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ کے سئینئرترین رہنما سردار سوار خان نے ایک شدت جذبات سے لبریز ایک پرزور تقریر کی ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ اقوام متحدہ کی قرارداد ہو یا شملہ معاہدہ ہویا کو ئی اور معاہد ہ ان کو تسیلم نہیں کرتے کیونکہ ان معاہدوں میں کشمیر یوں کی نمائندگی نہیں ہے ۔آزادی اللہ تعالی کے انمول نعمتوں میں سے ایک ہے آزاد انسان اپنی طرز زندگی اپنے طور طریقے سے بسر کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو انجوائے کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ایسے انسان جو کہ کسی کے غلام ہو تے ہیں وہ اپنی زندگی ناکامی و تنزلی میں کی طرح گزارتے ہیں اور خرافات کا شکار ہو جاتے۔ ان کے پاکستانی و کشمیر ی قوم کے لئے یہ الفاظ بہت عمدہ تھے جن کو انھوں نے غور فکر کہ کر پکارا ہے ۔کہ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے عقیدئے تو بہت ہیں لیکن دل یقین سے خالی ہیں ۔قابل رحم ہے وہ قوم جو بڑھکیں لگانے والوں کو اپنا ہیرو ،قائد سمجھتی ہے ۔لیکن چمک کی تلوار سے بنے ۔۔عظیم فاتح حریت پسندوں کو اپنی ان طاقت سمجھتی ہے ۔قابل رحم ہے وہ قوم جو ٹکڑوں و تفرقوں میں بٹ چکی ہے اور ہر تفرقہ اپنے آپ کو ہی صیحح سمجھتا ہے ۔انہوں نے قوم کو زور دیا کہ ایسا قائد ہونا چاہیے جو دیانت ،شجاعت و محبت کا پیکر کا ساتھ دینا چاہیے ۔اس کے بعد تقریب سے سٹوڈنٹ لبرشن فرنٹ کے جیالے رہنما سردار وسیم نے اپنے خطاب میں شہید کشمیر کو خراج تحسین و عقیدت پیش کیا انھوں نے کہا کہ مقبول بٹ شہید نے اپنی قوم کی خاطراپنے آپ کو تخت دار پر پیش کیا ۔آج تک جو بھی قومیں آزاد ہوئی انھوں نے اپنی جنگ خود لڑی ۔ہمیں سب کو اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے تبھی ہم اپنے قائد شیر کشمیر مقبول بٹ کے مشن کو کامیاب کر سکتے ہیں اور کشمیر کو آزاد ی دلوا سکتے ہیں ۔تقریب سے پروفیسر سیدذوالفقارصاحب نے کشمیر کے حسن جمال و تاریخ پر روشنی ڈالی ۔جموں کشمیر لبرشن فرنٹ سعودی عرب کے نائب صدر نثار قادری کی تقریر سب سے جدہ اور قارین کے لئے بری سبق آموز تھی انھوں نے جذباتی انداز میں اپنی تقریر میں کہا کہ آزاد ی کی قیمت وہی جانتے ہیں جو کسی کی غلامی کے زیر سایہ رہ چکے ہیں ۔پاکستان کا انہوں نے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آزاد ہونے کے باوجود ابھی تک محکوم ہے ۔اس کے فیصلے آزاد نہیں ہوتے جب تک ہمیں پتہ نہیں چلے گا کہ ہماری حقیقت کیا ہے ،کشمیری قوم کی حقیقت کیا ہے تب تک ہم آزاد ی کی بات اچھے طریقے سے نہیں باور کروا سکتے ۔ہمیں تفرقہ بازی اور حسد و تعصب سے بالا تر ہو کر ایک جان نہ ہوں ہم آزاد ی حاصل نہیں کر سکتے ۔اس وقت بیس لاکھ سے زائد کشمیری اوور سیز میں ہیں اگر وہ بیس ہزار ہی سفیر کشمیر بن جاہیں تو کشمیر کا مسئلہ حل ہونے میں اہم پیش رفت ہو جاتی ہے ۔تقریب سے پاک کشمیر رائٹر کلب الریاض کے صدر راجہ پرویز شاہین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبول بٹ شہید ہمارے قائد کشمیر ہیں اور شہید کے رتبے کو اللہ تعالی نے خود بہت بڑا رتبہ کہا ہے ۔راجہ پرویز شاہیں کے جذبات سے لبریز یہ الفا ظ کہ
I have no dout in my mind that can say i am very clear they will never failed who died in a great cause .man burn and die was a man are such never died who live in the hearts of people
جن سے انہوں نے اپنے قائد مقبول بٹ شہید کو زبرداست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اورانھوں نے اپنی تقریر میں کشمیریوں کو ایک جگہ متحد ہو کر شہید کشمیر مقبول بٹ کے مشن کو کامیاب بنانے پر پرزور دیا ۔چیف آرگنائزر جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ خواجہ منظور احمد چشتی نے اپنے خطاب میں پنڈال میں بیٹھے ہوئے تمام عہدیداران و شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شیر کشمیر مقبول بٹ شہید کی قربانی ایک قوم کے لئے تھی ،وہ اس لئے نہیں کہ ہم یہاں آکر نوحہ خوانی کریں بلکہ یہ ایک تحریک ایک سوچ کا نام کے لئے دی گئی قربانی تھی اور یہ ان کی قربانی آج بھی ہم سے یہ سوال کرتی ہے کہ ہم بحثیت قوم جو ہمارا ایجنڈا تھا ابھی مکمل نہیں ہو ا کہ محض ہمار ا قوم بننا ہی ہمارئے مسئلے کا حل ہے اور کشمیریت ہی ہماری پہچان ہے اور ایک قوم ہی بننا ہماری آزادی کا سب سے بڑا بول ہے ۔اعزازی مہمان جموں کشمیر لبرشن فرنٹ دمام کے صدر راجہ حنیف صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت پاکستان کشمیر کے مسئلے پر کشمیر کے مسئلے پر پوری کشمیری قوم کاوکیل ہے لیکن جب وکیل ہی اپنے موقف سے ہٹ کر کو ئی اور بات کرنے لگے تو اس سے کیس کمزور پڑھ جاتا ہے ۔پاکستان نے بھارت کیساتھ جو سندھ طاس معاہدہ کیا چونکہ دریا کشمیر سے بہتے تھے لیکن پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کرکے بھارت کو کشمیر کے حق کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ مسئلہ بھارت کے حق میں کر دیا ۔اس وقت کے حکمرانوں نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ یہ دریا کشمیر سے ہیں اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے تو پھر سندھ معا ہد کیسا؟؟جب تک آپ کشمیر یوں کی پہچان نہیں کرواتے کہ کشمیر ایک قوم ہے تو میں دعوئے کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کشمیر کی آزاد ی ممکن نہیں ہے ہمیں پہلے ایک قوم بننا ہے اور ایک قوم کی حثیت سے آزاد ہونا ہے آزاد ہونے کے بعد پھر قوم فیصلہ کرئے کہ اب پاکستان کے ساتھ ہونا ہے یا ہندوستان کیساتھ یا پھر خودمختار تو ایسا جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ چاہتی ہے ۔کشمیری قوم کی تاریخ ہمیں دیکھنی ہے ۔عبدالمجید بٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنے قائد کو زبردست خراج تحسین پیش کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے مقبول بٹ شہید کے مشن کو مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ لیا اور تاریخ کی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب علامہ اقبال نے بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے جو الگ ملک کا تصور پیش کیا تھا تو انھوں نے اس کا نام افغانیہ رکھا تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ اقبال نے یہ بھی کہا تھا کہ ۔
؂نغمہ نو بہار اگر میرئے نصیب میں نہ ہو
اس دم نیم سوز کو طاہر کے بہار کر
بہار آنے سے پہلے ابا بیلیاں آتی ہیں اور وہ ابابیلیا ں یہ پیغام دیتی ہیں کہ بہار آرہاہے اور علامہ اقبال نے بھی اپنے آپ کو اس ابابیل ظاہر کر کے ہمیں ایک الگ پاکستان کا تصور دیا ۔جیلیں ہمارا راستہ نہیں روک سکتی ،ڈر ختم ہو چکا ہے کشمیریوں کا ،اور مقبول بٹ شہید تو شہید کشمیر ہے اس کے مشن کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں ۔وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو تی جو اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہے ،کشمیری قوم کی ایک تاریخ ہے اور ہر قوم کی تاریخ کے کچھ روشن پہلو ہوتے ہیں اور کچھ تاریک پہلو بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عبدالمجید بٹ کا کہنا تھا کہ اس کی بات ہر کوئی کرتا ہے لیکن کو ئی اس قرارداد کوجانتا نہیں کے اس کے اندر کیا لکھا ہو ا ہے ایفیکٹوپارٹ بی کہ آزاد کشمیرسے پاکستان اپنی فوج کو نکالنی ہے اور ان تمام لوگوں کو جو اس کے زیر حراسہ ہیں ،ہندوستان کو بھی اپنی فوج مقبوضہ کشمیر سے نکالنی ہے مگر وہ تھوڑی رکھ سکتا ہے اور وہی تھوڑی فوج آزاد کشمیر میں بھی داخل ہو ۔ اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ نے ہمار ا مسئلہ جان بوجھ کر لٹکایا ہو ا ہے ۔اس مسئلے کو اگر کو ئی حل کرئے گا تو وہ ہم نے بحثیت قوم خو د حل کریں گئے اور مقبول بٹ شہید نے بھی ہمیں یہ کہا تھا ۔انھوں نے کہا کہ جموں کشمیر لبرشن فرنٹ پاکستان و آزاد کشمیر عوام کی کشمیریوں کی ساتھ وابستگی ،محبت و خلوص کو قد ر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور عوام کو سیلوٹ پیش کرتی ہیں لیکن یہ مسئلہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے ۔اللہ گواہ ہے کہ یہ حکمران ہمارے سینے کے داغ ہیں ۔یہ ہم او آئی سی ،او آئی سی کرتے ہیں او آئی سی کا اجلاس تھا جدہ میں تو سبھی حال میں بیٹھے ہوئے تھے تو وہاں پر میں نے جنرل سیکرٹری سے سوال پوچھا کہ
with your respect sir On behalf of Peoples of Kashmir we send you a resolution which you passed already
پر ایک بات آپ بتائیں کیا آپ کے پاس کو ئی ایسا آپشن ہے کہ جس کی بدولت آپ ان قرارداد پر جلدی سے جلدی عمل کرا سکیں؟؟؟تو آگے سے جواب ملتا ہے Brother !! Your Question is very right ... مگر افسوس کے ساتھ یہ کہناکہ ہم قراردادپاس کرتے ہیں مگر عمل درآمد کا کوئی آپشن نہیں ۔پاکستان کے عوام نے بہت محبت کی کشمیریوں کے ساتھ مگر حکمرانوں نے ہمیشہ مایوس کیا۔ آخر میں مہمان خصوصی نے جذباتی انداز میں مقبول بٹ شہید کے مشن کو مکمل کرنے کا اعادہ کیا۔تقریب کا آخری خطاب صدر تقریب رفیق بیگ نے کیا انھوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ حکومت پاکستان تڑیسٹھ سال سے یہی کہ رہی ہے کہ کشمیر کامسئلہ حل ہونا چاہیے ہم ان کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گئے اور ہماری صرف و صرف یہی ڈیمانڈ ہے کہ کشمیریوں سے پوچھاجائے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اگر کشمیر ی 51 فیصد کہتے ہیں کہ ہم الحق پاکستان کے ساتھ ہو نگے تو جموں و کشمیر لبرشن فرنٹ بھی پاکستان کے ساتھ ہو گی اور اگر 51فیصد عوام یہ کہیں کہ ہم خود مختار و آزاد ہونگے تو پھر پاکستان کو بھی ماننا چایئے اور ہندوستا ن کو بھی کیونکہ یہ پھر کشمیریوں کا جمہوری حق ہے یا پھر اس شق کو ختم کیا جائے ۔انہوں نے مہمان خصوصی صاحب کا شپیشل شکریہ ادا کیا اور دیگر شرکا اور مقبول بٹ شہید کے عزم کو مکمل کرنے کا اعادہ کیا ۔تقریب کے آخر میں پاک کشمیر رائٹر کلب کی طرف سے صدر پاک کشمیر رائٹر کلب راجہ پرویزشاہین نے مہمان خصوصی عبدالمجید بٹ صاحب کو شیلڈپیش کی اور ان کی کشمیر کے لئے خدمات کو سہرایاگیا۔پاک کشمیر رائٹر کلب کی طرف سے صدر راجہ پرویز شاہین نے دوسری شیلڈ چیف آرگنائزرجموں کشمیر لبرشن فرنٹ خواجہ منظور احمد چشتی کو پیش کی گئی ۔پروقار عشائیہ پر پروگرام کا اختتام کیا گیا۔


Learn CPR

Register in our Virtual Blood Bank (Only KSA)

Click to send your Classified ads

KSA Newsletter Archives - Read all about our community in KSA
Be United - Join the Community
ęCopyright notice