بوڑھے یا بڑی عمر کے لوگ اپنی صحت کی کس طرح حفاظت کریں

 

ambreenfaizpaki@yahoo.com

یہ مقولہ توآپ سب نے سنا ہوگا کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ لیکن آج کل کے دور میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ اپنی صحت کی طرف توجہ دئے سکے۔ اس لئے چھوٹی عمروں میں ہی لوگ کسی نہ کسی مرض میں مبتلا نظر آتے ہیں۔اس کی سب سے اہم وجہ حرص و ہوس اور ہر کسی کو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی خواہش نے مار ڈالا ہے۔جس کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت ذہنی دباؤ اور نفسیاتی اُلجھاؤ جیسے ا مراض میں گرفتار نظرآتی ہے ۔ الغرض ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی صحت پر شروع سے ہی توجہ دینی چاہئے تاکہ بوڑھا پے کی عمر تک آنے تک صحت پر زیادہ اثر نہ پڑے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ اگر صحت نہ ہو تو سونے کا نوالہ بھی بے کار ہے۔ اور گھر میں لاکھ بھی آرام وآسائیش کی چیزیں موجود ہوں لیکن آدمی اس سے آرام اور لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا تو یہ ساری چیزیں اس کے لئے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ آپ ہر وقت اللہ سبحان وتعالیٰ کے شکر گزار رہنے کی کوشش کریں۔
اللہ نے جو کچھ آپ کو عطا کیا ہے اس پر قناعت کریں کیونکہ انسان کے بس میں کچھ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں اتنی قوت ہے کہ اپنی سانس کو اپنے جسم میں واپس لا سکے۔ یہ تو صرف خدا کا کام ہے وہ ہی اس کام کو انجام دیتا ہے۔اگروہ چاہے تو زندگی دے اور جس کی چاہے زندگی لے سکتا ہے۔
آئیے آج میں آپ کو بتاؤں کہ بڑی عمر کے لوگ کس طرح اپنی صحت کی حفاظت اور دیکھ بھال کر سکتے ہیں تاکہ دوسروں پر بوجھ بننے سے بچ سکیں ۔ آج کے دور میں ہر کوئی اتنا مصروف ہوگیا ہے کہ دوسروں کے لئے وقت نکالنا اُس کیلئے مشکل ہو گیا ہے لہٰذا ہر کسی کے لئے بہت ضروری ہے کہ جسمانی طور چاک و چوبند رہے۔ جیسے جیسے عمر میں اضافہ ہوتاجاتا ہے اپنے آپ کو چاک وچوبند رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے بڑی عمر یا بوڑھاپے میں اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا چاہے۔ تاکہ جسم میں کم سے کم بیماری لگ سکے۔ کیونکہ جب آدمی بوڑھاپے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس میں قو تِ مدافعت کم ہوجاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی ہڈیاں بھی کمزور ہوجاتی ہیں۔ اور ان کے اندر بھر بھراپن پیدا ہو جاتا ہے اس لئے صحت مند رہنے کے کیلئے ورزش بہت ضروری ہے۔ Stretch یعنی کھینچاؤ والی ورزش کرنا بڑی عمر کے لوگوں کے لئے فائدہ مند ہوتی ہیں کیونکہ جیسے جیسے عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہڈیوں میں لچک کم ہوتی جاتی ہے۔ اس لئے ہڈیوں کی لچک کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کھینچاؤ (stretching) جیسی ورزش کی جائے۔ اسکے علاوہ جوڑوں کی مضبوطی کو قائم رکھنے کے لئے Yoga جیسی وزرش بھی کی جائے مگر آہستہ آہستہ اور احتیاط کیساتھ۔
*
چہل قدمی : ۔
یہ ورزش دراصل بڑی عمر یعنی بوڑھے لوگوں کے لئے زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتی کیونکہ وہ زیادہ تیز نہیں چل سکتے ہیں ۔ حالانکہ چہل قدمی سے نہ صرف calories اور fatsکم ہوتے ہیں بلکہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں بھی کافی حد تک مدد ملتی ہے۔
*
تیراکی : ۔
تیراکی ایک ایسی ورزش ہے جس میں زیادہ زور نہیں لگانا پڑتا ۔اس لئے بڑی عمر کے لوگ بھی اس کو آسانی کے ساتھ کر سکتے ہیں ۔اس عمل سے جسم پر خوشگوار اثر پڑتا ہے ۔ خاص طور پر بڑی عمر کے لوگوں میں بہت ہی اچھا اور سود مند اثر ہوتا ہے۔ مثلاََ دل کی بیماریوں میں میں مدد دیتا ہے اور جوڑوں میں لچک پیدا کرتا ہے ۔ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے ۔ اسکے علاوہ ہڈیوں میں بھر بھرا پن کوبھی ختم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔
مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ بد قسمتی سے تیزی کیساتھ ورزش بڑی عمر کے لوگوں کی ہڈیوں، جوڑوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر منفی اثر بھی ڈالتی ہے ۔ تیراکی جیسی ورزش ایسے لوگوں کیلئے سودمند ثابت ہوتی ہے جنکی عمر پچاس سال یا اس سے زائد ہو۔
*
چند احتیاطی تدابیر:
مختلف قسم کی ورزشیں کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کچھ ورزشیں ایسی ہوتی ہے جن سے جسم پر مثبت اثر پڑتا ہے ۔ لیکن کچھ ورزشیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے کرنے سے جسم پر چوٹ بھی آسکتی ہے ۔ اسلئے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ورزش 20 سے 30 منٹ تک کرنی چاہیے اور ہفتے میں 3 سے 4 بار۔ لیکن وہ بھی ڈاکڑ کی ہدایت کے مطابق۔
خیال رہے کہ ورزش کرنے کیلئے مستقل مزاجی بہت ضروری ہوتی ہے۔ ورزش ہمیشہ تھوڑی لیکن مستقل مزاجی کیساتھ کریں۔ بڑی عمر کے لوگ اپنے آپ کو ہر وقت چُست رکھنے کی کوشش کریں ۔ جس کیلئے ضروری ہے کہ انھیں کوئی بھی دن بغیر کسی جسمانی عمل کئے بغیر نہیں گزارنا چاہیے۔
مغربی ممالک کے لوگوں میں آپ نے یہ بات دیکھی ہو گی کہ وہ لوگ خاص کر پچاس یا اس سے زاہد عمر کو پہنچتے ہیں تو وہ اپنی صحت کا کافی خیال رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور روزانہ کئی اقسام کی ورزشوں کو اپنی زندگی کا معمول بنائے رکھتے ہیں۔ اسی لئے تو انکی عمریں لمبی ہوتی ہیں ۔اسکے علاوہ وہ لوگ ہمیشہ خو ش و خُرم رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک اور معاشرے کے لوگ جب پچاس یا ساٹھ سال کی عمر کوپہنچتے ہیں تو وہ زہن میں اس سوچ کو پروان چڑھا لیتے ہیں کہ اب دُنیا سے رُخصتی کا وقت قریب آ ن پہنچا ہے۔ اور اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جس سے دُنیا بھر کی بیماریاں ان پر حملہ آور ہو جاتی ہیں ۔ یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ اگلی سانس اسے لینا نصیب ہو گی بھی یا نہیں۔
یاد رہے کہ ورزش کرنے سے پہلے جسم کو گرم کرنا بہت ضروری ہوتاہے۔ تا کہ جسم کی شریانوں میں خون کی گردش ذرا تیز ہو جائے۔ جسم میں مضبوطی پیدا کرنے کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ورزش کو مستقل مزاجی کیساتھ کیا جائے لیکن آہستہ آہستہ تا کہ جسم پر کوئی بوجھ نہ پڑنے پائے۔
Aerobic Exercise
آہستہ آہستہ ہوتی ہیں مگر جسم پر مثبت اثر ڈالتی ہیں ۔ ورزش ہمیشہ اچھے دوستوں کیساتھ کرنے کی کوشش کریں تا کہ وقت کا اندازہ نہ ہو اور کوئی بوریت اور تھکان بھی نہ ہو۔ خاص طور پر بڑی عمر کے لوگوں کو ہمیشہ اپنے ہم عمر وں کیساتھ ورزش کرنے سے زہن پر بہت مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ اسکا ایک اور بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ بڑی عمر کے لوگ جب ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے اپنی دل کی باتیں کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں ۔
خیال رہے کہ ورزش کرنے سے آپکی صحت اچھی رہے گی جس کی وجہ سے آپ ایک اچھی صحت مند اور خوشیوں سے بھری زندگی گزار سکے گئے۔ مذید یہ کہ بہتر صحت کی بدولت آپ اپنے آپکو کو دوسروں پر بوجھ بلکل محسوس نہیں کریں گے۔