sheenjeem@gmail.com

 

’’باس‘‘ کے آگے جھُکا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
اِس لیے پھولا پھلا تو بھی نہیں میں بھی نہیں

میری نیّت بھی بری ہے، تیری نیّت بھی بری
دونوں کھوٹے ہیں، کھرا تو بھی نہیں میں بھی نہیں

باہمی بغض و حسد ملنے نہیں دیتے ہمیں
گو کہ آپس میں خفا تو بھی نہیں میں بھی نہیں

ہے یہی بہتر نہ ٹانگ اپنی اڑائیں درمیاں
واقعے سے آشنا تو بھی نہیں میں بھی نہیں

آؤ ہم دھندا کریں دونوں سیاست کا نیازؔ
گاؤں میں لکھّا پڑھا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
نیازؔ سواتی

کبھی پھر گفتگو ہوگی کہ یہ سوغاتِ افرنگی
عموماً آدمی کی ذہنیت کیسی بناتی ہے
ابھی اتنا کہے دیتا ہوں انگریزی کے بارے میں
کچھ ایسی ڈھیٹ ہے کمبخت، آتی ہے نہ جاتی ہے
 
انور مسعود

کبھی کی ہوچکی ہوتی ہماری اور اک شادی
ہمارے درمیاں حائل جو اک پاجی نہیں ہوتا
وہ لڑکی اب بھی راضی ہے مگر شادی کرے کیسے
کہُ اس لڑکی کا جو پوتا ہے وہ راضی نہیں ہوتا
 
امیر الاسلام ھاشمی

 اِک دکاں میں جو گیا میں کہ خریدوں جوتا
پیر میں ڈالا دُکندار نے موزوں جوتا
دام سن کر جو میں چونکا تو وہ بولا مجھ سے
تم خریدوگے اِسے یا میں اتاروں جوتا؟
شوکت جمال