خمار کرکٹ

 

shaheenji4@gmail.com

چائے کو کپ میں ڈالنے کے لئے عالیہ نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا۔۔۔ یک دم چیخ و پکار کے باعث چائے مگ کی بجائے کچن کے فرش پر تیرتی ہوئی نظر آئی۔کیتلی کے فرش پر گرنے کی آواز ایسی تھی کہ ٹی وی روم میں بیٹھے شائقین کی چیخ و پکار کو فل سٹاپ لگ گیا۔ سب نےبھاگتے بھاگتے کچن کا رخ کیا اور فرش پر گری چائے کا نظارہ دیکھ کر افسوس کرنے کی بجائے عالیہ کی خیر خیریت دریافت کرنے کی بجائے نئی چائے بنانے کا حکم صادر کر کے واپس چلے گئے اور دوبارہ سے رنز اور سکورپر تبادلہ خیال شروع ہو گیا۔ْْْْْْْ پپ کورن بھی بنا دیںْ۔ ایک اور فرمائش آئی۔۔۔صرف عالیہ کا گھر ہی ان حالات سے دوچار نہیں بلکہ مسز عبرین کے گھر خاص طور پر مرد حضرات کے حالات بھی خمار کرکٹ کی زد میں ہیں۔ان کے بقول پچھلی مرتبہ جب ورلڈ کپ شروع تھا۔ تو اس دورانیہ میں ہمارا گھر سے باہر نکلنا ممنوع تھا۔یہاں تک کہ گھر کے استعمال کی اشیائ اور کھانے پینے کی چیزوں کی جب ضرورت پڑی تو میں نے میاں سے بازار جانے کے لئے کہاتو میاں نے انکار کر دیا اور یوں ہمیں گروسری (اشیائ ) کےبغیر ہی گزارہ کرنا پڑا۔ اس لئے اب کی بار ہم پہلے سے ہی ہفتے بھر کا سامان سٹور کرنے والے ہیں۔ مریم کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔جہاں کرکٹ کا چینل چینج کرنے کی اجازت نہیں۔صرف اور صرف کرکٹ کو ہی دیکھنا اور سننا ہے۔ اگر اپنی بات کروں تو لیپ ٹاپ بھائی سے لینا بھی ایک محاز سے کم نہیں۔ چونکہ کرکٹ اون لائن جو دیکھنا ہے۔گویا ایسے حالات تو گھر گھر کی کہانی ہیں۔۔۔ پر اس میں فرق صرف یہ ہے کہ یہ سٹار پلس کے ڈراموں کی شیدائی خواتین کی نہیں بلکہ کرکٹ کے عشق میں ڈوبے مردوں کی ہے۔ حالانکہ کرکٹ کی مدت کم عرصے پر محیط ہوتی ہے۔پر اس کے خمار کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ہر وقت ہرجگہ کرکٹ ہی کرکٹ ہو رہا ہوتا ہے۔گھر کے اندر ہو یا باہر ، کام پر ہو یا دوست  کے ساتھ ، فون ، نیٹ ، موبائل ہر جگہ کرکٹ کی ہی باتیں ہوتی ہیں۔چلو شوق کی تسکین کے لئے سب جائز سہی۔ اس پر غضب ان لوگوں کے تبصرے۔۔۔۔کام کاج چھوڑ چھاڑ کر ٹی وی کے آگے سج کربیٹھنا ہی کافی نہیں۔۔۔ اب اگر ٹی وی دیکھ رہے ہیں تو کچھ پیٹ پوجا کرنا بھی تو ان کا فرض ہے۔ اس لئے ساتھ ساتھ نت نئی ڈ ششز کی فرمائشیں بھی عروج پر ہوتی ہیں۔ اور یوں خواتین کچن کی ہی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ کرکٹ کی خماری میں اضافے کا ایک باعث میڈیا بھی ہے۔ جو لوگوں میں حصوصا خواتین میں بھی کرکٹ کے شوق کو ابھارنے میں  مددگار ثابت ہوتے ہیں۔کیونکہ عموما خواتین کو مردوں کی نسبت کرکٹ میں کم دلچسپی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ایسی ایسی کمرشل ترتیب دی جاتی ہیں جن کی بدولت گھریلوں خواتین بھی کرکٹ کو شوق سے دیکھتی ہیں۔ پر سچ تویہ ہے کہ سب کے جوش و خروش کو دیکھتےہوئے اپنے دل سے بھی اپنی ٹیم کی کامیابی اور سرخروئی کے لئے دعا نکلتی ہے۔

عام طور پر گیمز میں جوش و جذبہ کا عنصر قدرتی طور پر ہی موجود ہوتا ہے۔ اگر جوش نہیں تو کھیل نہیں۔چنانچہ کرکٹ کے لئے اس قدر جوش و جذبہ ہونا قدرتی عمل ہے۔ پر جب ایک کھیل سے ملک و قوم کا نام روشن ہو تو اس کھیل کی قدروقیمت قوم و ملک کی نظر میں دگنی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ  صرف ہماری وقتی جوش و جذبہ سے نہیں بلکہ ہمارے جذبوں سے، توقعات سے اور قومیت کی روح کی تسکین سے جڑا ہے۔ تبھی تو ہر لب پہ کامیابی کی دعا ہوتی ہے۔ جب کھیلاڑی کھیل کے میدان میں  اترتے ہیں تو ان کے پیچھے ہزاروں لب ہاتھ اٹھائے ان کی کامیابی کے لئے رب کے خضور سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ اور دعا کرتے ہیں کہْْْ  یا رب ! ہمارے ملک کا نام روشن کرنا اور ہمارے ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ْ۔ آمین۔۔ بے شک  و ہی فتح بخشنے والا ہے۔

بس توقکل اﷲ ورلڈ کپ Will be اپنا۔۔۔۔۔۔