غزل

برائے ٰ۱۵ جنوری ۲۰۱۱ ؁ء

شاعر: محسن ؔ علوی جدہ سعودی عرب

جو درد دل یہ نوک زباں تک پہنچ گیا
پورا وجود تلخی جاں تک پہنچ گیا


کس کی حرم میں قلب کے دستک سنائی دی
ہے کون دل یہ کس کے گماں تک پہنچ گیا

روداد فصل گل کوئی لکھے تو کیا لکھے
جو پھول بھی کھلا وہ خزاں تک پہنچ گیا

 

شائد ترے وجود کا ادراک کرسکوں
یہ سوچ کر میں جانے کہاں تک پہنچ گیا

 

جب زخم دل پہ زخم لگا پھر نیا کوئی
لفظوں کا تیر بن کے زباں تک پہنچ گیا

منزل کی سمت آج میں کرتا ہو سفر
منزل کے ایک اور نشاں تک پہنچ گیا

تسکین دل کے واسطے دنیا میں پھر خیال
تڑپا تو آپ کوئے بتاں تک پہنچ گیا

ہر اشک غم جو آنکھ سے دامن کو دیکھتا
برسا تو خود ہی اپنے مکاں تک پہنچ گیا

جو درد خون ہوکے رواں دوڑتا پھرا
محسنؔ وہ آج حرف و بیاں تک پہنچ گیا