فراموش نصیحت 

 

شاہین جاوید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الر یاض

نصیحت کرنا ، سمجھدار اور معتبر لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ جو زندگی کے فلسفے کو جان لیں یا جو بہتر تجزیہ کی نگاہ رکھتے ہوں۔ان کے نزدیک نصیحت کرنا مفید ترین عمل ہوتا ہے۔اس میں عمر کی کوئی قید نہیں بس کوئی اچھی اور بھلائی کی بات دوسروں تک پہنچانا حاصل مقصود ہوتا ہے۔جس سے لوگوں کا بھلا ہو سکے۔ اور اکثر اوقات نصیحت نقصانات سے بچاؤ کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔نصیحت کرنے والا اس شخص کا ہمدرد اور خیر خواہ ہوتا ہے جسے وہ نصیحت کر رہا ہوتا ہے۔اب یہ اس شخص پر منحصر ہے کہ آیا وہ نصیحت کو سمجھے اور اس پر عمل کرے۔ اور درست راہ راست پر قائم رہے۔ یا پھر نصیحت کو فراموش کر کے اندھیرے میں جا گرے۔بعض اوقات نصیحت کو فراموش کرنا بہت بڑے اور خوفناک نتیجے کا باعث بنتی ہے۔
جس طرح دنیا میں ہر اچھی چیز کا متضاد موجود ہے۔ اسی طری نصیحت کا الٹ بھی سطح زمین پر روز اول سے ہی موجود ہے۔حضرت آدم علیہ اسلام کو اﷲ کی جانب سے جنت میں ایک نصیحت ہوئی۔دنیا پر فراموش نصیحت کی ابتداء کرنے اور لوگوں کو اس کے نقصانات بتانے کے لیے آدم علیہ السلام نے بھی غلطی کی اور رب کے حکم کو ، اس کی نصیحت کو فراموش کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جنت سے نکال دئیے گئے۔ اور خدا کی ناراضگی بھی ان کے زندگی کے باب کا ایک حصہ بن گئی۔اگرچہ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ سے رب و العزت کی ناراضگی گم ہو گئی اور اس طرح اس فراموش نصیحت کا دورانیہ مختصر عرصہ تک محدود ر رہا اور نقصان قابل تلافی ہو گیا۔

 

لیکن بعض اوقات نصیحت کو فراموش کرنے کے باعث ایسے سنجیدہ حالات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔جو ناقابل تلافی ہوتے ہیں۔جس کی بدولت انسان کی زندگیاں بدل جاتی ہیں۔اور عمر بھر ایک ناسور دل و دماغ کو پشیمان اور رنجیدہ کئے رکھتا ہے۔ فراموش نصیحت کا خمیاذہ آدمی خود تو بھگتتا ہے پر بعض اوقات ایسی فراموشی اس شخص سے جڑے تمام لوگوں کی زندگیوں کو بھی عمر بھر کا روگ دے جاتا ہے۔یوں تو قومیں بھی اپنے قائد کی نصیحتوں کو فراموش کرتی رہی ہیں، جس کا خمیازہ معصوم عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔پر اس وبا کا زیادہ تراثر آج کل کی نوجوان نسل کی زندگیوں پر پڑتادیکھائی دیتا ہے۔کیونکہ نوجوان نسل عمر کے اس حصے میں ہوتی ہے 

 

جہاں ان کے لیے صرف اور صرف ان کا عمل ہی صحیح اور درست ہوتا ہے۔ جہاں جوش کو ہوش پر فوقیت دی جاتی ہے۔یہی وجہ بنتی ہے کہ وہ اپنی زندگیاں بزرگوں کی نصیحتوں کے بغیر اپنی  مرضی سے گزارنے پر زیادہ خوش باش نظر آتے ہیں۔اور بزگوں اور والدین کی نصیحتوں کو حاطر میں نہیں لاتے اور حادثوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔


گزشتہ چند روز پہلے پاکستانی ٹی وی نیوز چینل پر ایک ایسے ہی فراموش کر دینے والی خبر سے آگاہی ہوئی جس میں جماعت چہارم میں پڑھنے والے اسفندر یار ، اسلام آباد میں کار ریسینگ دیکھنے کے شوق کو تسکین پہچانے کے لیے موقع پر پہنچے تو حادثاتی طور پر اسی ریسنگ کار کے خوفناک ٹکراؤ سے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اسفندر یار کے ہمراہ ان کے والداورایک ہم جماعت ، اس کی چھوٹی بہن بھی ریسنگ دیکھنے آئے اور ریس کا مظاہرہ کرنے والی ہی ایک گاڑی میں سوار نوجوان کے ہمراہ حادثے کا شکار ہو گئے۔گویا اسفندد یار کی خواہش ، اس کا شوق ہی اس کی تباہی اور موت کا سبب بن گیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے والد کو بھی موت کی نیند سلا گیا۔جو نوجوان کار ریسسنگ کا مظاہرہ کر رہا تھا ، وہ ماسٹر کے آخری سال میں زیر تعلیم تھا۔اور جلد ہی اپنے والدین کے لیے خوشیوں اور آسائشوں کا سہارا بننے والا تھا۔ والدین نے یقیناًاپنے بیٹے کو اس طرح کے جان لیوا شوق پالنے سے منع کیا ہو گا اورسمجھایا بھی ہو گا ۔ہر صبح وہ اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کرتے ہوئے رخصت کرتے ہونگے کہ ’’ بیٹا گاڑی آہستہ سے چلانا‘‘۔۔۔ پر کسے کیا پتا تھا کہ ان کے بیٹے نے ان کی نصیحت پرنہ صرف عمل کیا ۔ بلکہ اسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا ہو گا۔یقیناًاس نوجوان کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس کی اپنے والدین کی اس نصیحت کو فراموش کرنے کا کیا نتیجہ ہو گا۔۔جواں سال بیٹے کی موت کی خبر یقیناًاس کے والدین کے لیے عذاب الہی سے کم نہ ہو گی۔۔تب کہیں نہ کہیں ان کے دل میں یہ احساس بھی آیا ہو گا کہ’’ کاش ہمارا بیٹا ہماری نصیحت سن لیتا‘‘۔اسی طرح اکثر والدین اپنے بچوں کو بائیک کم رفتار میں چلانے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں۔پر والدین کی حالت کا احساس کے بغیر وقتی مزاح کے لیے وہ تیز رفتار کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر اچانک ایکسیذنٹ میں اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔اور ان کے والدین عمر بھر کے لیے اپنی اولاد کے غم کو سینے سے لگائے اپنے بچے کی یاد میں سلگتے رہتے ہیں۔


والدین اپنے بچوں کے حوالے سے ہمیشہ ہی فکر مند نظر آتے ہیں اور وقتا فوقتا اپنے بچوں کو ان تمام چیزیوں سے دور رہنے کی نصیحت کرتے رہتے ہیں جن سے ان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں کچھ بچے اپنے والدین کی نصیحت کو پلے باندھ لیتے ہیں ۔ پر کچھ بچے والدین سے چوڑی چھپے ان چیزوں کا استعما ل جاری رکھتے ہیں۔ ایسے میں ان کے سب سے بڑے ہمراز ان کے دوست احباب ہوتے ہیں جو اِن حرکات کوخود بھی پوشیدہ رکھتے ہیں اورانہیں بھی والدین کی اجازت کے بغیر کام کرنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔خود تو اپناحال اور مستقبل برباد کر رہے ہوتے ہیں۔ دوسروں کو بھی تباہی کے رستے پر ڈال دیتے ہیں۔ کاش کے یہ نوجوان نسل سمجھ جائے ، والدین کے اس کرب کو سمجھے جو بچوں کی دکھ درد ، اور تکلیف کی بدولت ان کے دلوں میں ہوتا ہے۔ کیونکہ بچوں کو والدین اپنے خون سے سینچتے ہیں۔بچے کی تکلیف والدین کی آہوبکاکی وجہ بنتی ہے۔ اگر زخم بچہ کو لگتا ہے تو تکلیف والدین کی روح کو ہوتی ہے۔ خدارا والدین کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے اے نوجوانوں ، ان کی نصیحت کو فراموش مت کرو۔۔۔