Issue# 204

1st Feb 2011

 

کس نگر کو جائیں؟

Email: shaheenji4@gmail.com

شاہین جاوید۔۔۔ ریاض

اﷲ سبحان تعالی نے جتنی بھی مخلوقات پیدا کی ہیں۔ان سب کے دلوں میں آشیانے کے لیے خاص قسم کا جذبہ پیدا کیا۔ چاہے چرند پرند ہو یا پھر انسان ، اپنے مسکن کو بنانے اور سنوارنے کے لیے بہت جدوجہد کرتا ہے۔ملک بھی گھرکی مانند ہوتا ہے۔جو ہمیں دنیا کی تپتی دھوپ میں سایہ فراہم کرتا ہے۔ جو ہمیں شناخت فراہم کرتا ہے۔ جو ہمیں اپنے حقوق کو استعمال کرنے کی آ زادی دیتا ہے۔ جب چار دیواروں پر مشتمل گھر کی خاطرانسان اپنی پوری زندگی تگ و دو کرنے میں گزار دیتا ہے تو پھرسرزمین کی ترقی اور بقا کے لیے بھی کام کرنا ہر شہری کا فرض ہوتا ہے۔اسی طرح وطن کی رکھوالی کرنا عوام کی اولین ترجیحات میں سے ہونا چاہیے۔ طارکین وطن عام طور پر اپنے ملک سے دور ہونے کے باعث اپنی سرزمین سے ذیادہ لگاؤ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اپنے ملک کے حالات کے منفی و مثبت پہلوں کا ان پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔ تارکین وطن رہ تو دوسری سرزمین پررہے ہوتے ہیں پر ان کے دل وطن کے حالات کے ساتھ دھڑک رہے ہوتے ہیں۔اسی لیے وہ ملک و قوم کی  سیاسی اور سماجی ، فلاحی یا ترقیاتی ، صوبائی یا عالمی سطح پر ہونے والی ہر بات کا بخوبی جائزہ لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طارکین وطن اپنے ذاتی گھر بار کو چلانے کے لیے بہتر روزگار کی خاطر دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ پر وہ ملک کی جانب سے عائد فرض کو کبھی فراموش نہیں کرتے اور دیارغیر میں رہ کر بھی اپنی ملک کے لیے ایسی تدابیر اختیار کرتے ہیں جن سے ان کے ملک کو فائدہ ہو۔ لیکن جب دیارغیر میں مقیم لوگ اپنے 

 
 

ملک کے حالات کو صاف اور شفاف نہیں پاتے ۔ تو بے انتہا تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ فکر و غم میں مبتلا ہو کر وہ ملک کے  لیے رب کے جضور سجدہ ریز ہو کر دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جس طرح پرندے بھی دن بھر کی مشقت کے بعد اپنے گھروں کو روانہ ہوتے ہیں، اسی طرئ پردیسی بھی اسی امید پر اپنی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن ہم بھی اپنے گھروں کو روانہ ہوں گے اور اپنے آشیانے میں سکون اور آزادی سے رہیں گے۔اور اپنے ہر عمل سے ملک کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔پر افسوس کہ ملک کے باشندوں خصوصا حکمرانوں کو اپنےحقوق کا دعوی کرنا تو آیا۔ پر اپنے فرض نبھانے نہیں آئے۔ایسا لگتا ہے کہ  ملک کو انفرادی مفاد کے لیے اندر ہی اندر سے کھوکھلا کیا جا رہا ہو۔وہ ملک جو قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے۔پر حکمرانوں کی غلط تدبیروں کے باعث دوسروں کے قرضوں کی بدولت اپنے معملات کو  چلانے پر مجبورہو۔ ملکی خزانہ آئی ایم ایف کی رقم پر چلے اور حکمرانوں کے بنک اکائونٹ دوسرے ممالک میں بےشمار بھڑے پڑے ہوں۔ ملک میں گیس کے بیش بہا ذخائر موجود ہونے کے باوجود عوام کھانا پکانے سے محروم ہوں۔ سونے اور دیگر دھاتوں سے لیس اس ملک  کو اس کے باشندے اپنی مرضی کے مطابق استعمال نہیں کر رہے بلکہ دوسروں کے اشاروں کے محتاج ہو کر رہ جائیں۔ اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ ذخائر اپنی سرزمین میں موجود ہیں پر انہیں استعمال کرنے کا اختیار دوسروں کی ہتھیلی پر رکھ دیا گیا ہے۔ ملک کی قومی ائیر لائن کے اعلے عہدےداروں کے بقول پی آئی اے کا دوالیہ نکل گیا ہو۔پرغیر ملکی کمپنیاں دنیاوی اعتبار سے اہمیت کی حامل اس ائیر لائن  میں سرمایہ کاری کرنے کو پیش پیش ہوں۔  زرعی اعتبار سے زرخیز اس ملک کے باشندے سو روپے کلو ٹماٹر کے بھائو تائو سے نڈھال ہوں۔ کہیں ملک کےحکمرانوں کے بچے اعلی تعلیم کے لیے اربوں خرچ کریں اور کہیں بے شمار غریب بچے تعلیم کے نام سے ہی محروم ہوں۔ دوسرے ممالک سے مصنوعی بجلی درآمد کرنے کے باوجود عوام 10 سے 12 گھنٹے اندھیرے کے زیر سایہ رہنے پر مجبور ہوں۔ دودھ ، آٹا ، چینی، گیس،بجلی ، پانی ، پٹرول ، مہنگائی ، بے روزگاری ، تشدد ، امن و سلامتی کے بحران ، سب سے بڑھ کر عہدےداروں کے سیاسی اعمال سے رونما ہونے والے معاشی اور سماجی بحران نے ملک و قوم کے مستقبل کی بارے میں ایک سوالیہ نشان پیدا کر دیا ہے۔کہ آخر ہمارے ملک کا مستقبل کیا ہو گا؟یہی سوال تارکین وطن کی لیے تشویش کا باعث ہے۔ ایک طرف ملک کے بگڑتے حالات ملک کی سلامتی کے لیے چیلنج کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں۔تودوسری طرف پردیسیوں کے لیے اپنے ملک ، اپنی سرزمین کے نا ہموار اور ناسازگار حالات ان کے لیے دکھ اور صدمے کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ ملک کے حالات دیکھ کران کے دلوں میں اٹھتے درد کے ساتھ یہی سوال سرگوشی کرتا ہے کہ  دیار غیر سے جانے کے بعد  آخر  ْْ ہم کس نگر کو جائیں؟