Issue# 204

1st Feb 2011

بچوں کی پرورش کے ابتدائی مرحلے

Email: ambreenfaizpaki@yahoo.com

عنبرین فیض احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الریاض

بچوں کی تربیت کرنا ایک بڑا ہی مشکل اور نمبرد ازما مرحلہ ہوتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ماں باپ ایک کسان کی طرح ہوتے ہیں ۔ جس طرح ایک کسان اپنی فصلوں کی دیکھ بھال کرتا ہے اور فصلوں کی کٹائی کا انتظار کرتا ہے ۔ اسی طرح والدین اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت میں اپنا تن من دھن سب کچھ ختم کر دیتے ہیں تا کہ ان کی اولاد بڑی ہو کر نیک فرمانبردار اور صالح اولاد بنے ۔ ساتھ ہی ساتھ بہت پڑھ لکھ کر ایک بہت اعلیٰ مقام بھی حاصل کر سکے۔ کہتے ہیں کہ والدین کو اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے تا کہ بچوں کی ہر حرکات و سکنات کا والدین کو با خوبی علم ہو۔ وہ کہاں جاتے ہیں کس کس سے ملتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے دوست  

 
 

احباب کا حلقہ کیسا ہے تا کہ بچے بُری صحبت میں نہ پڑیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھوں شیر کی آنکھ سے ۔ یہ سب تبھی ممکن ہے جب والدین بچے کی ابتدائی دنوں سے اُن کی تربیت پر نظر رکھیں۔جبکہ آجکل کا دور ایک انتہائی خطرناک دور ہے ۔ لیکن جب بچوں میں بُرے اور بھلے کی تمیز ہوتی ہے وہ ہمیشہ اپنے لئے اچھائی کا راستہ چنتے ہیں ۔ لیکن یہ اسی وقت ممیکن ہو سکتا ہے جب والدین اپنے بچوں پر اپنی پوری توجہ اور وقت صرف کریں۔ تب کہیں جا کر ان کے بچے ان کے لئے ایک تناور درخت بنتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت خوش نصیت ہوتے ہیں جب کے بچے نیک صالح اور فرمانبردار نکلتے ہیں کیونکہ یہ بچے ہی ہوتے ہیں جو والدین کی زندگی بھر کی محنت کا ثمر ہوتے ہیں۔ لیکن جن والدین کے بچے اس کے برعکس نکلتے ہیں وہ والدین کیلئے زندگی کا ایک روگ بن جاتے ہیں۔ ا س لئے اپنے بچوں پر ابتدا سے ہی توجہ اور محنت کیجئے ۔ تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ نیک اور صالح نہ بنیں۔ کہتے ہیں کہ نیک اور صالح اولاد والدین کیلئے صدقہ جاریہ ہوتی ہے ۔ جو والدین کی موت کے بعد بھی ان کیلئے دعا کرتے ہیں۔ جب بچہ اسکول جاتا ہے تو اسے دوسرے بچوں سے ملنا جُلنا سکھائیں اور دوسرے بچوں کے جزبات کا خیال کرنا سکھائیں۔ صفائی کے بارے میں بتائیں اُستادوں کا احترام کرنے کیلئے سکھائیں۔ ہر کسی سے تمیز سے بات کرنا سکھائیں۔ کبھی بھی بچوں کی غلط حرکتوں یا باتوں میں اُنکی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ بلکہ بہت پیار سے اُنھیں سمجھائیں ۔ چھوٹے بچے پر زیادہ سختی اچھا اثر نہیں چھوڑتی ۔ اس سے ان کی دلوں میں آپ کیلئے خوف اور نفرت بیٹھ جاتی ہے۔ جب بچوں میں ملنے جُلنے کی عادت ہوتی ہے تو وہ آسانی کے ساتھ سب کچھ سیکھ لیتے ہیں ۔ اور کھیل کھیل میں ہی بہت کچھ سیکھ چکے ہوتے ہیں۔

 
جب بچے پرائمری اسکول میں ہوتے ہیں وہاں آپ نے یہ غور کیا ہو گا کہ بچوں کی گانوں کے ذریعہ رنگوں کی پہچان مہینوں کے نام اور جسم کے حصوں کے نام وغیرہ سیکھا دئے جاتے ہیں۔ اور یوں بچوں پر بوجھ بھی نہیں پڑتا ۔ اور اس طرح وہ بہت کچھ سیکھ بھی جاتے ہیں ۔ کیونکہ زہین بچوں کا زہیں بہت تیزی سے کام کرتا ہے اور وہ ہر چیزوں کو بہت گہری نظر سے دیکھتے ہیں ۔


جب بچے پرائمری اسکول سے نکل کر کنڈر گارٹن میں جاتے ہیں تو ان کی پڑھائی کا ابتدائی دور شروع ہو جاتا ہے جس میں بچوں کو گنتی اور ابتدائی حروف نگلش اور اُردو پڑھائی اور سیکھائی جاتی ہے ۔ ہر وقت بچوں کو پڑھائی کرنے کیلئے نہ کہیں کیونکہ چھوٹے بچے بہت جلدی بد دل ہو جاتے ہیں سوتے وقت انہیں کوئی ایسی کہانیاں سنائی جائیں جس سے وہ کچھ سبق حاصل کر سکیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے کو گنتی صحیح طریقے سے آ جائے تو وقفے وقفے سے بچوں سے گنتی سنیں۔ اسکی پہچان کروائیں کارٹون کے ذریعے بھی بچے بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں۔ اور یوں دیکھتے دیکھتے وہ پہلی کلاس میں پہنچ جاتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ ان پر پڑھائی کا بوچھ ڈالیں۔ ہر روز د وگھنٹے ان کوپڑھائیں مگر جب وہ پڑنے سے اُکتا جائیں تو ان کے ساتھ ہر گز زبردستی نہ کریں۔


* کس طرح بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اُجاگر کیا جا سکتا ہے:
فیصلے کرنے میں انکی حوصلہ افزائی کریں۔ تا کہ وہ چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے ان میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو ۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے شروع کریں ۔ مثال کے طور پر کون سی کتا ب وہ پڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت ضرور ی ہے کہ آپ انھیں بہت سی کتابوں کے نام بتائیں تا کہ ان میں سے وہ اپنی مرضی کی کتاب کا انتخاب کر سکیں۔

 

  • اپنے نقطہ نظر ان سے شئیر کریں۔ اپنے خیالات کا اظہار کریں تا کہ ان کے اندر بھی اپنا نقطہ نظر کسی کے سامنے اُجاگر کرنے کا حوصلہ اور ہمت پیدا ہو سکے۔

  •  بچوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کریں تا کہ وہ اپنی پسند نا پسند کا برملہ اظہار کر سکیں۔

  • ان کی باتوں کو سنیے ۔ یہ بہت ضروری ہے کہ انکے نظرئیہ کو قبول کریں۔

  • بچوں کو یہ بارآور کرائیں کہ آپ ان کی ہر بات کو بہت غور اور دھیان سے سُنتے ہیں۔ اس طرح بچوں میں بولنے اور سوچنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور ان کو یہ احساس دلائیں کہ آپ کو ان کا کس قدر خیال ہے۔

  • اگر کوئی اچھا کام کریں تو ان کی تعریف کریں۔ تعریف کرنے سے بچوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

  • سچائی کو قبول کریں۔ اپنے بچوں کی ہمت بڑھائیں تاکہ وہ واقعی میں سچ بولنے اور سچی بات سُننے کی ہمت برداشت اور صلاحیت پیدا ہو۔


کس طرح بچوں میں حوصلہ پید اکیا جا سکتا ہے:
بچہ اگر کوئی اچھا کام کرئے تو اُسے صرف یہ کہہ کر نہ بھگا دیں کہ شاباش بہت اچھا کام کیا ۔ تم کا تو بہت اچھا نتیجہ آیا ہے وغیرہ۔ یا یہ کہ ہم تم سے بہت خوش ہیں۔ بچے بہت زہین ہوتے ہیں وہ اپنے والدین کی ہر ادا کو پہچان جاتے ہیں کہ کب وہ واقعہ ہی میں خوش ہیں اور کب وہ صرف مجھے خوش کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں۔


ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد دُنیا میں انکا اور اپنا نام پیدا کرئے ۔ اپنی اس خواہش کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ضروری ہے کہ آپ بچپن سے ان کی جتنا ہو سکے بہترین نشوونما اور تعلیم و تربیت کریں۔اگر آپ کے بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی ہو گی تو کوئی شک نہیں کہ نہ صرف انکی زندگی بہتر اور کامیاب ہو گی بلکہ وہ آپ کے بڑھاپے کا بھی بہترین سہارا بنے گے۔