وفائیں

Email: shaheenji4@gmail.com

شاہین جاوید۔۔۔ ریاض

چاہتوں میں، رقابتوں میں جس قدر صداکتیں ہوتی ہیں ۔ اتنی ہی وہ پائیدار ہوتی ہیں۔ اگر چاہتوں میں وفا کم ہو جائے تو رقابتیں اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ اور یوں فاصلے بڑھ جاتے ہیں ۔ وفا کیا ہے؟ احساس ، جزبہ یا کوئی قیمتی چیز؟کیا اس کا کوئی مول ہے ؟ کیا یہ خریدی جا سکتی ہے؟اس کا گھر کہاں ہے؟ انسانوں کی زندگی میں اس لفظ وفا کی کیا اہمیت ہے؟ یقینا ان سب سوالوں کے جوابوں تک رسائی حاصل کرنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ان باتوں کو سمجھنے کے لئے دماغ سے زیادہ دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیک ایماندار اور شفیق دل انسان کے لئے اس پاک لفظ وفا کی گہرائی اور سچائی کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ بلکہ ایک پاک اور دلفریب جزبہ ہے۔ جو محبت اور سچائی کی حدوں کو پار کرتا، دل کی ہوک بنتا انسان کے لبوں پر سج جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی قوت ہے جو اگر انسانوں کے دلوں میں اپنے رب کے لئے پیدا ہو جائے تو وہ دین و دنیا میں سرخرو ہو جائیں۔ اگر اولاد کے دل اس جزبے سے سرشار ہو جائیں تو جنت دینا میں ہی ان کا مقدر بن جائے۔ اسی طرح اگر یہ جزبہ محبوب کے دل میں سرگوشی کرنے لگے تو اس کی محبت پر سچائی کی یہ مہر اس کے لئے باعث فخر بن جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا موتی ہے جس کا کوئی مول نہیں جو انمول ہے۔ جسے کبھی کوئی خرید نہیں پایا۔یہ تو خدا کی دین ہے اور خدا جسے چاہے اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔خدا نے انسان کو یہ بیش قیمتی جزبہ عطا فرمایا اور انسان کے دل اس جذبہ کا مسکن بن گیا۔ جہاں پر یہ پھوٹتا اور نشونما پاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ موجودہ دور کے باشندوں کے دل اس پاک اور عظیم جزبے سے محروم نظر آتے ہیں۔ جس کی بدولت انسانی روئیے موسموں کے طرح بدلتے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں کہ دلوں میں وفا اب باقی نہیں۔ لیکن وفا کی پائیداری میں اور اس کی مستقل مزاجی میں خاصا فرق آ گیا ہے۔ دلوں میں محبت کی کرنیں تو اب بھی زندہ ہیں پران کرنوں کی روشنی میں وفا کے نور کی کمی بہت جلد دل و دماغ پر عیاں ہو جاتیں ہیں ۔ اور پھر اس وقتی محبت کا نام دل لگی کی زمرے میں آ جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں افسانہ اور محبت کا تصور صرف لیلہ اور مجنوں والے عشق و محبت سے کیا جاتا ہے۔جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں اور جتنے بھی تعلق ہیں۔سب کی بنیاد پیار و محبت ہی ہے۔ چاہے یہ جذبہ اولاد اور والدین کے درمیان ہو یا بہن بھائی کے مابین ایک دوسرے کی لئے احساس۔ اسی طرح بچوں کا اپنے استادوں کے لئے احترام۔ مختلف الفاظوں سے پکارے جانے والے یہ سب رشتے اس جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایک شخص دوسرے شخص کی فکر کرنا سیکھتا ہے۔ گو دنیا کے ہر تعلق کی ابتدائ اسی جذبے سے ہے۔ اور اس جذبے پر وفا کی مہر انسان کی روح کو پر سکون کر دیتی ہے۔کہ اس نے اپنی ہر زمہداری سچے دل سے پوری کی۔